اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اس وقت امریکہ کے ساتھ براہِ راست کوئی مذاکرات جاری نہیں ہیں، تاہم بعض ثالث فریق دوبارہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عراقچی نے وزارت خارجہ کے زیر اہتمام محرم و عاشورا، وزارت خارجہ کی دستاویزات کے آئینے میں کے عنوان سے منعقدہ تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ثالث اب بھی مذاکرات کا راستہ دوبارہ کھولنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ جب تک امریکہ مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزیوں کا ازالہ نہیں کرتا اور اپنے کیے گئے اقدامات کی تلافی نہیں کرتا، ایران کے نزدیک مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے عمان کے ساتھ جاری بات چیت کے بارے میں بتایا کہ یہ مذاکرات آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے ایک نئے راستے کے تعین سے متعلق ہیں۔ ان کے مطابق اس معاملے پر بات چیت آخری مرحلے میں پہنچ چکی ہے اور ماہرین نئے بحری راستوں پر کام کر رہے ہیں۔
عراقچی نے تاہم واضح کیا کہ نئے بحری راستے پر اتفاق کا مطلب آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دینا نہیں ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کو کھولنے کا فیصلہ بعض مخصوص شرائط کی تکمیل سے مشروط ہوگا۔
آپ کا تبصرہ